کاروار9؍فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا ریاستی اسمبلی میں وزیراعلیٰ کماراسوامی نے جو بجٹ پیش کیا ہے، اس میں ایک طرف ملیناڈو کے علاقے میں محض امید اور آس جگائی گئی ہے، تودوسری طرف ساحلی علاقے کے عوام کو کافی مایوسی ہوئی ہے۔
ملیناڈواور ساحلی علاقے میں باغبانی، سیاحت کے فروغ، بنیادی سہولتوں کی ترقی، تعلیم اور ماہی گیری جیسے شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس کے باوجود کہاجاسکتا ہے کہ سماج کے تمام طبقات کے مفادات کو پوراکرنے کی نیت سے تیار کیا گیا ہے۔منڈگوڈ کے تالابوں کو وردا ندی کے پانی سے بھرنے کے لئے 40کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کاروار کے میڈیکل سائنس انسٹی ٹیوٹ کے لئے 150کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس میں کاروار کے ڈسٹرکٹ اسپتال کوترقی دے کر 450بستروں والے اسپتال میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔اس سے ہٹ کر ضلع شمالی کینرا کے لئے کوئی بھی فنڈ مختص نہیں کیا گیا ہے۔ کمٹہ میں ایئر اسٹرپ (چھوٹا ہوائی اڈہ) کی تعمیر کے تعلق سے عوام کو امیدیں تھیں، مگر اس کے بارے میں کوئی اعلان نہیں ہے۔ساحلی علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں بھی کسی تازہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔صرف ساحلی پٹی کی ترقی کے لئے 7کروڑ روپے فنڈ مختص کیا گیا ہے، جسے اونٹ کے منھ میں زیرہ کی مثال کہا جاسکتا ہے۔
ماہی گیروں کو تھوڑی خوشی اس بات سے ہوسکتی ہے کہ ان کی کشتیوں پر اِسرو کے تصدیق شدہ ڈی اے ٹی آلہ استعمال کرنے کے لئے 50فی صد سبسیڈی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اس کے لئے 3کروڑ روپوں کا فنڈ مخصوص کیا گیا ہے۔